TOP

بغیر موت کے کس طرح کوئی مرتا ہے


بغیر موت کے کس طرح کوئی مرتا ہے
یقیں نہ آئے تو وہ دیکھ جائیں آ کے مجھے


بلا عشق تو دشمن کو بھی نصیب نہ ہو
میرا رقیب بھی رویا گلے لگا کے مجھے

ہر اک شخص کو حاصل، جدا ہے کیفیت
جفا کے لطف تجھے ہیں مزے وفا کے مجھے

غضب ہے آہ میری، داغ نام ہے میرا
تمام شہر جلاؤ گے کیا جلا کے مجھے

0 comments:

Post a Comment