TOP

چاند اور نیند


رات کی بے رحم اداسی میں

ساری دنیا سکوں سے سوئی ھے


میں ھوں بے خواب اس شبستان میں

جانے کیوں آج بھی نہیں آئی

نیند جو دور چھپ کے بیٹھی ھے

جیسے یہ بھی خفا ھو اس کی طرح

اور ایسا گماں ھوتا ھے

پوری دنیا میں آج تنہا ھوں

اور نیلے فلک میں جیسے ابھی

چاند اک درد کے سفر میں ھے

اور بھری کائنات میں جیسے

میں بھی تنہا تیرے نگر میں ھوں



0 comments:

Post a Comment