TOP

تمھارے نام ...


تمھارے نام ، تمھارے نشان سے بے سروکار

تمہاری یاد کے موسم گذرتے جاتے ہیں


بس ایک منظرِ بے ہجر و وصل ہے جس میں

ہم اپنے آپ ہی کچھ رنگ بھرتے جاتے ہیں



نہ وہ نشاطِ تصور کہ لو تم آ ہی گئے

نہ زخم دل کی ہے سوزش کوئی جو سہنی ہو

نہ کوئی وعدہ و پیمان کی شام ہے نہ سحر

نہ شوق کی ہے کوئی داستان جو کہنی ہو



اتار دے جو کنارے پہ ہم کو کشتی وہم

تو گرد و پیچ کو گرداب ہی سمجتھے ہیں

تمھارے رنگ مہکتے ہیں خواب میں جب بھی

تو خواب میں بھی انھیں خواب ہی سمجتھے ہیں



نہ کوئی زخم نہ مرہم کہ زندگی اپنی

گزر رہی ہے ہر احساس کو گنوانے میں

مگر یہ زخم ، یہ مرہم بھی کم نہیں شاید

کہ ہم ہیں ایک زمین پر اور اک زمانے میں





0 comments:

Post a Comment