TOP

مجھے کسی کے تصور میں ڈوب جانے دو


مجھے کسی کے تصور میں ڈوب جانے دو
بہت نہیں تھوڑا سا ہی جل جانے دو


میں جانتا ہوں محبت نہیں اُسے مجھ سے
مگر میں خوش ہوں مجھکو فریب کھانے دو

میں بھول جاؤں اُسے یہ تو ہو ہی نہیں سکتا
وہ بھولتا ہے مجھے تو بھول جانے دو

میری وفائیں کل اُسے بہت رلائیں گی
میری وفا پہ اُسے آج مسکرانے دو

ہوا وہ کیسے جدا یاد کچھ نہیں آتا
میں سوچتا ہوں اُسے کچھ تو یاد آنے دو

0 comments:

Post a Comment