TOP

اے ہم نفس بتا تو


اے ہم نفس بتا تو

کب تلک بھلا میں


تیرے دھیان کی سرگوشیوں کو

اپنی روح میں بسا کر

تجھ سے گفتگو کرتی رہوں گی؟


اب تو تتلی کے پروں سے ہار بُنتے بُنتے

ہاتھ تھک گئے ہیں


جو دعا کے موسم تھے، گزر گئے ہیں

اب جو فاصلوں کے

گہرے کالے بادل درمیاں ہیں

یہ آنکھوں میں چبھتے رہتے ہیں


شکست اوڑھے قربتوں کے پل

اب دھڑکنوں کو ڈستے رہتے ہیں


لبوں نے ساری سسکیاں

مری آنکھوں کو سونپ دیں ہیں


خود کو کب تلک میں

آنسووں کی بارش میں ہرا رکھوں گی؟



0 comments:

Post a Comment