TOP

کام حرص و ہوس کا تھوڑی ہے



کام حرص و ہوس کا تھوڑی ہے

عشق ہر اک کے بس کا تھوڑی ہے



وہ مری دسترس میں ہے لیکن

مسئلہ دسترس کا تھوڑی ہے


آہ، آزاد چھوڑ دے کہ میاں

یہ پرندہ قفس کا تھوڑی ہے


تابہ کے سر پہ آسمان اُٹھائیں

ہجر یک دو نفس کا تھوڑی ہے


اب تو بس صُور پھونکئے کہ یہ کام

اب صدائے جرس کا تھوڑی ہے


اپنی تنہائی چھوڑ دوں کیوں کر

ساتھ اک دو برس کا تھوڑی ہے


جست بھرنے کا وقت ہے تاصف

وقت یہ پیش و پس کا تھوڑی ہے


0 comments:

Post a Comment