TOP

جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ھے

جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ھے

زخم تمہارے ہجر کا بھرتا جاتا ھے



کنکر پھینکنے والوں کو کچھ علم نھیں


پانی میں اک عکس بکھرتا جاتا ھے



دل کی غربت سارے گھر میں پھیل گئی

تصویروں سے رنگ اترتا جاتا ھے



بجھتی آنکھ کے سائے پھیلتے جاتے ھیں

شام کا منظر اور نکھرتا جاتا ھے

"محسن"اس نے دل کا شہر اجاڑ دیا
میں سمجھا تھا بخت سنورتا جاتا ھے

0 comments:

Post a Comment