TOP

موم کے رشتے ہیں گرمی سے پگھل جاتے ہیں



دیکھ لو خواب مگر خواب کا چرچا نہ کرو

لوگ جل جائیں گے ، سورج کی تمنا نہ کرو

موم کے رشتے ہیں گرمی سے پگھل جاتے ہیں

دھوپ کے شہر میں آذر یہ تماشا نہ کرو

0 comments:

Post a Comment