TOP

نیم شب کا اجاڑ سناٹا


نیم شب کا اجاڑ سناٹا

خواب آلود، بے صدا رستے

تیرگی سے اٹی ہوئی گلیاں

کھردرے سخت، بے چراغ کواڑ

سہمی سہمی ہوا کی دستک سے

سانس لیتے ہیں بد حواسی میں

پیڑ پر چند زرد رو پتے

ٹوٹتے ہیں، زمین پر گرتے ہیں

جسے بے شکل چاپ پہ اکثر

کوئی بیمار دل دھڑکتا ہے

ایسی تنہایوں میں بھی اب تک

میں تیرے نام جاگتے سوتے

...خیریت کے خطوط لکھتا ہوں



0 comments:

Post a Comment